خیبرپختونخوا میں گورنر راج،ایمرجنسی لگانے کافیصلہ مجبور ہوکرکیا، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ مجبوری میں کیا، گزشتہ ڈھائی سال کے دوران صوبائی حکومت کے ساتھ معاملات بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کی، وفاق نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے خیبر پختونخوا کو 800 ارب روپے دیے، تاہم پی ٹی آئی حکومت نے 13 سال میں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔
اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ چند ماہ سے صورتحال انتہائی خراب تھی اور پی ٹی آئی حکومت نے دہشت گردوں کے خلاف کوئی بھرپور کارروائی نہیں کی۔ صوبے میں سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا، جبکہ خیبر پختونخوا کے عوام 13 سال سے ترقی کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاق نے صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر چلنے کی ہر ممکن کوشش کی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے ان کی متعدد ملاقاتیں ہوئیں اور انہیں یقین دلایا تھا کہ وفاق صوبے کے ساتھ مل کر چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنا مشترکہ ذمہ داری ہے، لیکن پی ٹی آئی حکومت کے دور میں دہشت گردوں کو خیبر پختونخوا میں لایا گیا اور انہیں کھلی چھوٹ دی گئی۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2018 تک ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو چکا تھا، لیکن پی ٹی آئی حکومت آنے کے بعد سوات میں دوبارہ دہشت گرد آگئے۔ ان کے بقول صوبے میں انسداد دہشت گردی کے محکمے (سی ٹی ڈی) کو مضبوط بنانے کے بجائے دھرنوں اور گالم گلوچ کو فروغ دیا گیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آج دہشت گردی کا خاتمہ نہ کیا گیا تو ترقی کا سفر رک جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سری لنکا کا پاکستان کیخلاف ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان، کوشل مینڈس پہلی بار قیادت سنبھالیں گے
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور بے روزگاری کا خاتمہ چاہتی ہے، جبکہ غربت، بے روزگاری اور قرضوں سے نجات کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں سکیورٹی اہلکار اور عام شہری شہید ہو رہے ہیں، جبکہ ایک صوبے کا ملکی ترقی کے سفر میں پیچھے رہ جانا افسوسناک ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران شراکت داری کے ذریعے ملکی ترقی کے لیے کام کیا گیا، لیکن اگر کوئی سیاسی جماعت ملک کی تباہی پر تلی ہو تو یہ افسوسناک صورتحال ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت ترقی کے سفر کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔
وزیراعظم نے ماضی کے دھرنوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال ڈی چوک میں پیش آنے والے واقعات سب کے سامنے ہیں۔ 2013 اور 2014 میں بھی ڈی چوک پر دھرنے دیے گئے، قبریں کھودی گئیں اور گندے کپڑے دھوئے گئے، جبکہ ان دھرنوں کے باعث چینی صدر کا دورہ ملتوی ہو گیا تھا۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ کی طرف سے ایک اور 9 مئی کرنے کا حکم آیا، جس کے باعث حکومت کو مجبوری میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔
The post خیبرپختونخوا میں گورنر راج،ایمرجنسی لگانے کافیصلہ مجبور ہوکرکیا، وزیراعظم appeared first on آزاد اردو .