Back

نومبر میں بجلی کے بل کتنے بڑھیں گے؟ پاور ڈویژن نے صارفین پر پڑنے والے نئے مالی بوجھ کی تفصیلات بتا دیں

پاکستان میں بجلی صارفین کو نومبر کے بلوں میں فی یونٹ 2.56 روپے اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پاور ڈویژن نے ستمبر کی ماہانہ فیول کاسٹ ایڈجسمنٹ کے تحت اس اضافے کا تخمینہ ظاہر کیا ہے۔

پاور ڈویژن کے مطابق ستمبر میں بجلی کی پیداوار کے لیے مہنگا ایندھن استعمال ہونے کے باعث نومبر کے بلوں میں اضافے کا امکان ہے۔ اس ایڈجسٹمنٹ سے صارفین پر مجموعی طور پر تقریباً 32.7 ارب روپے کا مالی بوجھ پڑنے کا تخمینہ ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بروقت اقدامات اور مخصوص اوقات میں بجلی کے استعمال اور فراہمی کے انتظامات کے ذریعے ممکنہ اضافے کو محدود کیا گیا۔

پاور ڈویژن کے مطابق ان اقدامات کے بغیر صارفین کو فی یونٹ 5 سے 6 روپے تک اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔

اضافے کی وجہ کیا ہے؟

پاور ڈویژن کے اعلان کے مطابق ستمبر میں بجلی پیدا کرنے کے لیے مہنگے ایندھن کے استعمال نے فیول کاسٹ ایڈجسمنٹ میں اضافے کی بنیاد فراہم کی۔

اس ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے بجلی کی پیداوار پر آنے والی ایندھن کی لاگت کا اثر صارفین کے بلوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔

حکام کے مطابق ستمبر کی فیول کاسٹ ایڈجسمنٹ اگست کے 1.11 روپے فی یونٹ کے مقابلے میں 1.45 روپے فی یونٹ زیادہ رہنے کی توقع ہے۔

اس طرح نومبر کے بلوں میں 2.56 روپے فی یونٹ اضافے کا تخمینہ سامنے آیا ہے۔

لوڈ مینجمنٹ سے بوجھ کم کرنے کا دعویٰ

پاور ڈویژن کے مطابق ستمبر میں تقریباً دو سے ڈھائی گھنٹے کی ٹارگٹڈ لوڈ مینجمنٹ کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے فرنس آئل اور ہائی اسپیڈ ڈیزل جیسے مہنگے متبادل ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مدد ملی۔

وزارت کے مطابق اگر یہ اقدامات نہ کیے جاتے تو فیول کاسٹ ایڈجسمنٹ میں اضافے کا حجم تقریباً 3.44 روپے فی یونٹ ہوسکتا تھا۔

پاور ڈویژن کا دعویٰ ہے کہ اس حکمت عملی نے صارفین پر ممکنہ اضافی بوجھ محدود کرنے میں کردار ادا کیا۔

حکام نے بتایا کہ مقامی گیس کی قیمتوں پر درآمد شدہ مائع قدرتی گیس کی فراہمی سے بھی صارفین کے ممکنہ بوجھ میں 83 پیسے فی یونٹ کمی ہوئی ہے۔

عالمی بحران نے ایندھن مہنگا کیا

پاور ڈویژن کے بیان میں مشرق وسطیٰ کے تنازع اور آبنائے ہرمز کی بندش کو ایندھن کی عالمی رسد متاثر ہونے کی وجوہات میں شامل کیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق ان حالات میں بین الاقوامی منڈیوں میں ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

وزارت کے مطابق قطر کی جانب سے فورس میجور کے اعلان کے باوجود پاکستان نے معاہدوں کے تحت رسد جاری رکھنے اور اضافی اسپاٹ کارگوز کے ذریعے ایل این جی کی ضروریات پوری کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔

مائع قدرتی گیس بجلی کی پیداوار سمیت توانائی کی مختلف ضروریات کے لیے اہم ہے۔ اس کی فراہمی میں رکاوٹیں یا قیمتوں میں اضافہ بجلی پیدا کرنے کی لاگت پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔

صارفین پر 32.7 ارب روپے کا اثر

ستمبر کی فیول کاسٹ ایڈجسمنٹ سے نومبر کے بجلی بلوں پر مجموعی طور پر تقریباً 32.7 ارب روپے کے اثر کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ پاور ڈویژن نے کہا ہے کہ وہ عالمی ایندھن کی منڈیوں اور سپلائی چینز کی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

اس اضافے کا حتمی اطلاق متعلقہ ریگولیٹری فیصلے سے مشروط ہوگا۔ صارفین کے لیے اصل مالی اثر ان کے بجلی کے استعمال اور قابل اطلاق نرخوں کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔

پاور ڈویژن کا مؤقف ہے کہ عالمی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ تاہم نومبر کے بلوں میں متوقع اضافے کے باعث بجلی صارفین کو ایک مرتبہ پھر ایندھن کی لاگت میں تبدیلی کا اثر برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔

The post نومبر میں بجلی کے بل کتنے بڑھیں گے؟ پاور ڈویژن نے صارفین پر پڑنے والے نئے مالی بوجھ کی تفصیلات بتا دیں appeared first on آزاد اردو .

The full article is being collected. Available text is shown for now.

Back
Share this story

Get the daily newsletter →

Ask globalread.info

AI news & website helper
What would you like to explore?

I can find stories, explain headlines, or help you use globalread.info.

AI can make mistakes. Check the linked sources. Questions are sent to OpenAI.