خضدار میں آٹا مہنگا، مزدور طبقہ دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان

عسکر انٹرنیشنل رپورٹ
خضدار: آٹے کی قیمتوں میں اضافے نے خضدار میں عام شہریوں، خصوصاً محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے والے غریب خاندانوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ چکی مالکان اور دکانداروں کی جانب سے من مانی قیمتیں مقرر کیے جانے کے باعث بنیادی غذائی ضرورت پوری کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
شہریوں کے مطابق آٹا، گھی، چینی اور دیگر ضروری اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے محدود آمدنی والے خاندانوں پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ دن بھر محنت کرنے والا مزدور بمشکل گھر کے اخراجات پورے کرتا ہے، ایسے میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ اس کے لیے بچوں کی خوراک کا بندوبست کرنا بھی مشکل بنا رہا ہے۔ شہریوں نے بازاروں میں قیمتوں کی مؤثر نگرانی نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شہریوں نے کمشنر خضدار ڈویژن قادر بخش پرکانی اور ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا فوری نوٹس لیا جائے اور چکی مالکان، فلور ملز مالکان اور دکانداروں سے قیمتوں میں اضافے کی وجوہات معلوم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ گندم کی خریداری، پسائی اور ترسیل کے اخراجات کا جائزہ لے کر آٹے کی مناسب قیمت مقرر کی جائے اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
The full article is being collected. Available text is shown for now.