Back

ہائیر ایجوکیشن سیکٹر تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے 11 پبلک سیکٹر یونیورسٹیز ، 140 کالجز ، 1,200 ہائی اسکولز کردار ادا کر رہے ہیں، گورنر جعفر مندوخیل

Story illustration

کوئٹہ: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ صوبہ میں ہائیر ایجوکیشن سیکٹر تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے جس میں صوبے کی 11 پبلک سیکٹر یونیورسٹیز ، 140 کالجز اور تقریباً 1,200 ہائی اسکولز اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ گورنمنٹ جنرل محمد موسیٰ پوسٹ گریجویٹ کالج سے 62 گریجویٹس کے فارغ التحصیل ہونا ایک اعزاز ہے۔ مذکورہ کالج ایک قیمتی علمی اثاثہ ہے۔ اس ننھے پودے کو ایک تناور اور میوہ دار دار درخت بنانے میں ہزارہ کمیونٹی کے سرکردہ افراد نے قابلِ فخر کردار ادا کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہم علاقے کے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے میجر نادر ہزارہ اور موجودہ ایم پی اے زرک خان مندوخیل کی قابل فخر کاوشوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنمنٹ جنرل محمد موسیٰ پوسٹ گریجویٹ کالج کے پہلے کانووکیشن کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ واضح رہے کہ رکنِ صوبائی اسمبلی زرک خان مندوخیل نے جنرل محمد موسیٰ پوسٹ گریجویٹ کالج میں بجلی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے سولر انرجی سسٹم کی فراہمی کا اعلان کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر میرعاصم کرد گیلو، رکن صوبائی اسمبلی زرک خان مندوخیل، صوبائی سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ہاشم خان مندوخیل، وائس چانسلر لسبیلہ یونیورسٹی ڈاکٹر عبد المالک ترین، سابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری میجر نادر ہزارہ، ڈائریکٹر کالجز پروفیسر محمد حسین بلوچ اور پرنسپل موسیٰ کالج پروفیسر منظور احمد بڑیچ سمیت ماہرین تعلیم اور خواتین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ کانووکیشن کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے گورنر جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ چار دہائیاں قبل جب اس کالج کی بنیاد رکھی جا رہی تھی تو بلوچستان میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع بہت محدود تھے۔ آج کا یہ بامقصد اور تاریخی موقع تعلیمی قابلیت، مسلسل محنت، عزم و استقامت اور روشن مستقبل کی امیدوں کا مظہر ہے۔ آج کی کانووکیشن تقریب ان کی علمی و فکری نشوونما، ذاتی کامیابیوں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کی تیاری کی علامت ہے۔ ہم کالج کی انتظامیہ، اساتذہ کرام اور یونیورسٹی آف بلوچستان کو اس کامیاب کانووکیشن کے انعقاد اور فارغ التحصیل ہونے والے گریجویٹس کی کامیابیوں کو تسلیم کرنے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ تعلیم ایک ترقی یافتہ، پُرامن اور خوشحال معاشرے کی بنیاد ہے۔ یہ انسان کو تنقیدی انداز میں سوچنے، باخبر فیصلے کرنے، فرسودہ روایات کو چیلنج کرنے اور قومی ترقی میں بامعنی کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔بلوچستان جیسے صوبے کے لیے، جہاں ہماری نوجوان آبادی ہمارے سب سے قیمتی اثاثوں میں سے ایک ہے، تعلیم پر سرمایہ کاری محض ایک سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی مستقبل میں ایک ناگزیر سرمایہ کاری ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ہم غیرمعمولی تبدیلیوں کے دور میں زندگی گزار رہے ہیں۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، سائنسی ایجادات اور عالمی معیشت میں رونما ہونے والی تبدیلیاں ہمارے رہن سہن، کام کرنے کے طریقوں اور باہمی رابطوں کو نئی شکل دے رہی ہیں۔ مستقبل میں پیدا ہونے والی بہت سی ملازمتوں کیلئے ایسی مہارتوں کی ضرورت ہوگی جو آج بھی مسلسل ارتقا کے مراحل سے گزر رہی ہیں۔ آخر میں، میں ایک بار پھر تمام فارغ التحصیل گریجویٹس ان کے قابلِ فخر والدین، اساتذہ کرام اور جنرل محمد موسیٰ کالج کی انتظامیہ کو اس تاریخی موقع پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ بعد ازاں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے گریجویٹس میں گولڈ میڈلز اور اسناد تقسیم کیے ۔۔ گورنمنٹ جنرل محمد موسیٰ پوسٹ گریجویٹ کالج سے 62 گریجویٹس کے فارغ التحصیل ہونا ایک اعزاز ہے۔ مذکورہ کالج ایک قیمتی علمی اثاثہ ہے۔ اس ننھے پودے کو ایک تناور اور میوہ دار دار درخت بنانے میں ہزارہ کمیونٹی کے سرکردہ افراد نے قابلِ فخر کردار ادا کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہم علاقے کے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے میجر نادر ہزارہ اور موجودہ ایم پی اے زرک خان مندوخیل کی قابل فخر کاوشوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنمنٹ جنرل محمد موسیٰ پوسٹ گریجویٹ کالج کے پہلے کانووکیشن کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ واضح رہے کہ رکنِ صوبائی اسمبلی زرک خان مندوخیل نے جنرل محمد موسیٰ پوسٹ گریجویٹ کالج میں بجلی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے سولر انرجی سسٹم کی فراہمی کا اعلان کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر میرعاصم کرد گیلو، رکن صوبائی اسمبلی زرک خان مندوخیل، صوبائی سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ہاشم خان مندوخیل، وائس چانسلر لسبیلہ یونیورسٹی ڈاکٹر عبد المالک ترین، سابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری میجر نادر ہزارہ، ڈائریکٹر کالجز پروفیسر محمد حسین بلوچ اور پرنسپل موسیٰ کالج پروفیسر منظور احمد بڑیچ سمیت ماہرین تعلیم اور خواتین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ کانووکیشن کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے گورنر جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ چار دہائیاں قبل جب اس کالج کی بنیاد رکھی جا رہی تھی تو بلوچستان میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع بہت محدود تھے۔ آج کا یہ بامقصد اور تاریخی موقع تعلیمی قابلیت، مسلسل محنت، عزم و استقامت اور روشن مستقبل کی امیدوں کا مظہر ہے۔ آج کی کانووکیشن تقریب ان کی علمی و فکری نشوونما، ذاتی کامیابیوں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کی تیاری کی علامت ہے۔ ہم کالج کی انتظامیہ، اساتذہ کرام اور یونیورسٹی آف بلوچستان کو اس کامیاب کانووکیشن کے انعقاد اور فارغ التحصیل ہونے والے گریجویٹس کی کامیابیوں کو تسلیم کرنے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ تعلیم ایک ترقی یافتہ، پُرامن اور خوشحال معاشرے کی بنیاد ہے۔ یہ انسان کو تنقیدی انداز میں سوچنے، باخبر فیصلے کرنے، فرسودہ روایات کو چیلنج کرنے اور قومی ترقی میں بامعنی کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔بلوچستان جیسے صوبے کے لیے، جہاں ہماری نوجوان آبادی ہمارے سب سے قیمتی اثاثوں میں سے ایک ہے، تعلیم پر سرمایہ کاری محض ایک سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی مستقبل میں ایک ناگزیر سرمایہ کاری ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ہم غیرمعمولی تبدیلیوں کے دور میں زندگی گزار رہے ہیں۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، سائنسی ایجادات اور عالمی معیشت میں رونما ہونے والی تبدیلیاں ہمارے رہن سہن، کام کرنے کے طریقوں اور باہمی رابطوں کو نئی شکل دے رہی ہیں۔ مستقبل میں پیدا ہونے والی بہت سی ملازمتوں کیلئے ایسی مہارتوں کی ضرورت ہوگی جو آج بھی مسلسل ارتقا کے مراحل سے گزر رہی ہیں۔ آخر میں، میں ایک بار پھر تمام فارغ التحصیل گریجویٹس ان کے قابلِ فخر والدین، اساتذہ کرام اور جنرل محمد موسیٰ کالج کی انتظامیہ کو اس تاریخی موقع پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ بعد ازاں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے گریجویٹس میں گولڈ میڈلز اور اسناد تقسیم کیے ۔

The full article is being collected. Available text is shown for now.

Back
Share this story

Get the daily newsletter →

Ask globalread.info

AI news & website helper
What would you like to explore?

I can find stories, explain headlines, or help you use globalread.info.

AI can make mistakes. Check the linked sources. Questions are sent to OpenAI.