پاکستان کثیر جہتی نظام علاقائی تعاون میں فعال کردار ادا کر رہا وزیر خزانہ
بینکاک(نیوز ایجنسیاں)وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کثیرجہتی نظام سے پاکستان کی وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان علاقائی تعاون میں فعال کردار اداکررہاہے اورمستقبل میں بھی یہ کرداراداکرنے کیلئے تیارہے۔وہ بنکاک میں عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کے ساتھ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان میناپ کے اجلاس میں شرکت کے موقع پرگفتگو کررہے تھے۔ انہوں نے پاکستان کی معاشی پیش رفت اور علاقائی چیلنجز پر اظہار خیال کیا۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ مالیاتی خسارہ 22 سال کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے، مسلسل تین سال بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کیا گیا ہے اور معاشی شرح نمو 3.7 فیصد رہی ہے۔دریں اثناء وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے بدھ کو امریکی محکمہ خارجہ کے سفیر یون نے ملاقات کی جس دوران دوطرفہ معاشی تعاون بارے تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں تجارتی فریم ورک معاہدے پر پیش رفت اور امریکا سے درآمدات میں اضافے کے ذریعے توانائی کے ذرائع میں تنوع لانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیرِ خزانہ نے ایندھن کی مسلسل فراہمی برقرار رکھنے اور معاشی طورپرکمزور طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات پرروشنی ڈالی ۔انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے انتظامات، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے متعلق پیش رفت اور امریکی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن و ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے ذریعے منصوبوں کی مالی معاونت پر بھی گفتگو ہوئی۔ وزیرِ خزانہ نے ریکو ڈک منصوبے، اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون، منصوبے کی سلامتی اور نجی سرمایہ کاری کے مواقع پرتفصیل سے روشنی ڈالی۔ملاقات میں بوئنگ طیاروں کی خریداری اور مالی معاونت، ہوا بازی سے متعلق منظوریوں، ڈیجیٹل اثاثوں کے ضابطہ جاتی نظام اور ترسیلاتِ زر اور یورو بانڈز کے ٹوکنائزیشن کے ممکنہ استعمال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔قبل ازیںوفاقی وزیرِ برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے بدھ کو ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کے نمائندوں سے ملاقات کی جس دوران پاکستان کی معاشی پیش رفت اور خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کے امکانات بارے تبادلہ خیال کیا گیا۔تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پرہونے والی ملاقات میں وزیرِ خزانہ نے ستمبر میں بانڈ کے کامیاب اجرا، سرمایہ کاروں کی بھرپور شرکت اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیش رفت پرروشنی ڈالی ۔ وزیرخزانہ نے ٹیکس وصولیوں میں بہتری، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے ، کرنسی سویپ اور فارورڈ معاہدوں سے متعلق واجبات میں کمی بارے بھی آگاہ کیا۔علاوہ ازیںوفاقی وزیرِ برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے اصلاحات کاعمل جاری رکھنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاہے کہ دیگر ممالک کے ساتھ شراکت داری میں امدادکی بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کوترجیح دی جارہی ہے، رواں مالی سال کے دوران معاشی شرحِ نمو چار فیصد یا اس سے زیادہ رہنے کی امید ہے ۔وہ آئی ایم ایف اورعالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پربنکاک میں سٹی میکرو فورم کے اجلاس میں شرکت اور سٹینڈرڈ چارٹرڈ کے خودمختار سرمایہ کاروں کے گول میز اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔وزیرخزانہ نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے معاشی منظرنامے اور اصلاحات کے حوالے سے ترجیحات بارے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ معاشی استحکام کے عمل میں مسلسل پیش رفت جاری ہے ، مسلسل تین سال سے بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل ہورہاہے، مالیاتی خسارہ22 سال کی کم ترین سطح پرہے اور زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط بنانے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں،رواں مالی سال کے دوران معاشی شرحِ نمو چار فیصد یا اس سے زیادہ رہنے کی امید ہے۔
وزیر خزانہ
The full article is being collected. Available text is shown for now.