اپوزیشن لیڈر قسم اٹھائیں اپنی سیٹ جیتے ہیں محسن نقوی کا چیلنج
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں انتخابی نتائج اور فارم 47 کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، بیرسٹر گوہر کی جانب سے حکومتی ارکان کو اپنی کامیابی کے حوالے سے قسم کھانے کا مطالبہ کیے جانے پر وزیر داخلہ محسن نقوی بھی میدان میں آگئے اور انہوں نے اپوزیشن کو جواب دیتے ہوئے اپوزیشن لیڈر کی اپنی نشست پر کامیابی کے دعوے کو سوال کے دائرے میں لے آئے۔مشترکہ اجلاس کے دوران بیرسٹر گوہر نے انتخابی نتائج پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے حکومتی ارکان کو چیلنج کیا کہ وہ قسم کھا کر بتائیں کہ وہ فارم 47 کے ذریعے کامیاب نہیں ہوئے۔ ان کے اس مطالبے پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی کے بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتے، تاہم اگر اپوزیشن حکومتی ارکان سے قسم کھانے کا مطالبہ کرتی ہے تو اپوزیشن لیڈر کو بھی کم از کم اپنی نشست جیتنے کے حوالے سے قسم کھانی چاہیے۔محسن نقوی نے اپنے جواب میں اپوزیشن کے انتخابی مؤقف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر کامیابی کے دعووں کو قسم کے پیمانے پر پرکھنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تو یہ اصول صرف حکومتی ارکان تک محدود کیوں رکھا جائے؟۔ ان کے اس ردعمل کو اپوزیشن کے مطالبے کا جواب اور انتخابی نتائج پر جاری بحث میں جوابی چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔دریں اثناء مشترکہ اجلاس سے خطاب میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی مذاکرات کے لیے مجوزہ معاہدے کے نکات مجلس شوریٰ کے سامنے رکھتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان وزیراعظم سے ملاقات، سیاسی مذاکرات کے آغاز، مذاکراتی کمیٹی کی تشکیل، بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو تمام قانونی حقوق کی فراہمی، معمر اور بیمار قیدیوں کے لیے قانونی درخواستیں دائر کرنے اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے نکات پر اتفاق ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت اور وزیراعظم سیاسی مذاکرات کے حامی ہیں اور حکومت آج بھی بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم مذاکرات کے لیے دونوں فریقوں کو بااختیار نمائندے بھیجنے ہوں گے تاکہ فیصلے کرنے کے بعد دوبارہ قیادت سے اجازت لینے کی ضرورت نہ پڑے۔مجلس شوریٰ میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے جو نکات طے کیے گئے تھے، ان میں سب سے پہلے سیاسی مذاکرات کا آغاز اور اس مقصد کے لیے وزیراعظم سے اپوزیشن کی ملاقات شامل تھی۔ دوسرے نکتے کے تحت وسیع تر مذاکرات کے لیے سیاسی کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ تیسرے نکتے میں بانی پی ٹی آئی کو ان کے تمام قانونی حقوق فراہم کرنے کی یقین دہانی شامل تھی۔ انہوں نے کہا کہ معمر اور بیمار قیدیوں کی سزاؤں کے خلاف قانونی درخواستیں دائر کرنے اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد بھی مجوزہ معاہدے کا حصہ تھا۔محسن نقوی نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کا معاملہ بھی اہم ہے، کیونکہ یہ وہ منصوبہ ہے جسے خود تحریک انصاف کی حکومت نے مرتب کیا اور منظور کیا تھا۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور قومی سلامتی کے معاملات پر اتفاق رائے ضروری ہے۔وزیر داخلہ نے مذاکرات کے دوران پیش آنے والی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملاقاتوں کے حوالے سے بعض اوقات یہ پیغام دیا جاتا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی طبیعت خراب ہے اور اسی روز رات کو انہیں ہسپتال میں طبی معائنے کے لیے لے جایا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے آنکھوں کے مسئلے سے متعلق جو باتیں اور مطالبات کیے گئے، ان پر رضامندی ظاہر کی اور معاملات طے کرنے کی کوشش کی۔محسن نقوی کے مطابق جب بیشتر معاملات پر اتفاق ہو چکا تھا تو اس کے بعد ایک نئی شرط سامنے آگئی۔ انہوں نے کہا کہ بعض افراد کے نام بھی دیے گئے اور حکومت نے اس معاملے پر بھی آمادگی ظاہر کی، لیکن بعد میں مؤقف تبدیل کرتے ہوئے کہا گیا کہ اب متعلقہ افراد کو ہسپتال نہیں لایا جائے گا بلکہ خود وہاں آیا جائے گا۔ وزیر داخلہ نے اس صورت حال کو مذاکراتی عمل میں پیدا ہونے والی مشکلات قرار دیا۔انہوں نے تحریک انصاف کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورت حال میں جماعت کے اندر اپنے ہی رہنماؤں پر اعتماد کا مسئلہ دکھائی دیتا ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ حکومت آج بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن اس مرتبہ دونوں فریقوں کو واضح مینڈیٹ کے ساتھ آنا چاہیے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے آنے والے نمائندے صدر مملکت اور وزیراعظم سے اختیار لے کر آتے ہیں، اس لیے اپوزیشن کو بھی اپنے نمائندوں کو بااختیار بنا کر مذاکرات میں بھیجنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران یہ صورت حال نہیں ہونی چاہیے کہ کسی معاملے پر بات کرنے کے بعد نمائندے واپس جا کر اڈیالہ جیل سے پوچھنے اور پھر دوبارہ بات کرنے کی ضرورت محسوس کریں۔ ان کے بقول اگر مذاکرات کرنے ہیں تو انہیں بااختیار انداز میں آگے بڑھانا ہوگا۔محسن نقوی نے خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نہیں چاہتی تھی کہ ایمرجنسی کی نوبت آئے، لیکن ان کے بقول جب کوئی دوسرا راستہ باقی نہ رہا تو یہ فیصلہ کرنا پڑا۔ انہوں نے دہشت گردی کے واقعات اور جانی نقصانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ وہ کراچی سے جنازوں میں شرکت کے لیے پہنچتے رہے، لیکن پشاور سے کوئی نہیں آیا۔
محسن نقوی
The full article is being collected. Available text is shown for now.