Back

بھارتی اداکارہ نصرت بھروچا کامیاب سرجری کے بعد اسپتال سے گھر منتقل

ممبئی(جانوڈاٹ پی کے)بھارتی اداکارہ و ماڈل نصرت بھروچا کو ممبئی کے اسپتال میں کامیاب سرجری کے بعد ڈسچارج کردیا گیا، اب وہ روبصحت ہیں۔

انڈونیشیا کے تفریحی جزیرے بالی میں حادثے کے دوران بھارتی اداکارہ کی ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر ہوگیا تھا۔

اس حوالے سے 41 سالہ اداکارہ کی ٹیم نے تصدیق کی ہے کہ نصرت اب گھر پر صحت یاب ہو رہی ہیں۔ ان کی ٹیم کے مطابق مکمل صحت یابی کے لیے وقت اور مکمل آرام درکار ہوگا۔

فلم پیار کا پنچ نامہ سے شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ حال ہی میں کام اور تفریح کے سلسلے میں بالی، انڈونیشیا کے دورے پر تھیں، جہاں ایک حادثے میں ان کی ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر ہوگیا تھا۔

بیرونِ ملک ابتدائی طبی معائنے کے بعد انہیں جدید طبی سہولیات اور سرجری کے لیے ایئر ایمبولینس کے ذریعے ممبئی منتقل کیا گیا۔ اداکارہ کی جانب سے جاری کردہ ایک باضابطہ بیان میں کہا گیا، اس بدقسمت حادثے اور ایک مشکل و کٹھن مرحلے سے گزرنے کے بعد اب وہ تیزی روبصحت ہیں۔

بیان کے مطابق اب وہ گھر واپس آچکی ہیں، جہاں انکی بہت اچھی دیکھ بھال کی جارہی ہے۔ اس مشکل وقت میں محبت، فکر، دعاؤں اور نیک تمناؤں کا اظہار کرنے والے تمام افراد کے ہم تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔

یہ اپ ڈیٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب نصرت بھروچا نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر اسپتال میں قیام کی ایک مختصر جھلک شیئر کی تھی۔ ویڈیو میں انہیں طبی عملے کی مدد سے شاہ رخ خان اور کاجول پر فلمائے گئے رومانوی گیت گیروا سے لطف اندوز ہوتے دیکھا گیا۔

اداکارہ نے اپنے خیر خواہوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ مثبت سوچ کے ساتھ علاج جاری رکھے ہوئے ہیں اور آہستہ آہستہ صحت یاب ہو رہی ہیں۔

انکی آخری سینما ریلیز فلم اف یہ سیاپا (2025) تھی۔ اس فلم میں سوہم شاہ، نورا فتحی، اومکار کپور اور شریب ہاشمی نے بھی اہم کردار ادا کیے تھے۔

The post بھارتی اداکارہ نصرت بھروچا کامیاب سرجری کے بعد اسپتال سے گھر منتقل appeared first on Dekho Suno Jano .

The full article is being collected. Available text is shown for now.

Back
Share this story

Get the daily newsletter →

Ask globalread.info

AI news & website helper
What would you like to explore?

I can find stories, explain headlines, or help you use globalread.info.

AI can make mistakes. Check the linked sources. Questions are sent to OpenAI.