پشاور میں نجی اسکول کی چھت منہدم، 29 بچے اور ایک خاتون ٹیچر جاں بحق
پشاور میں تین منزلہ نجی اسکول کی چھت گرنے کے نتیجے میں 29 بچے اور ایک خاتون ٹیچر جاں بحق ہو گئے، جبکہ درجنوں بچے زخمی ہوئے ہیں۔
ریسکیو حکام نے بتایا کہ واقعہ دیر کالونی میں پیش آیا، جہاں نجی اسکول کی چھت گرنے سے متعدد بچے ملبے تلے دب کر زخمی ہو گئے۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق 28 لاشیں لیڈی ریڈنگ اسپتال، جبکہ 2 لاشیں نصیراللہ بابر میموریل اسپتال پہنچائی گئی ہیں۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ 25 زخمی بچوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ جاں بحق بچوں کی عمریں 7 سے 13 سال کے درمیان ہیں۔
دوسری جانب سی سی پی او پشاور میاں سعید نے بتایا کہ واقعے میں 40 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں اور نجی اسکول کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق اسکول کے پرنسپل کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ ادارہ کب قائم ہوا تھا، اس بارے میں انکوائری کی جا رہی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ایف آئی آر درج کی جا رہی ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ اسکول کی عمارت تین منزلہ تھی۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جو چھت گرنے کی وجوہات معلوم کرے گی۔
ریسکیو حکام کے مطابق عمارت کا ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے، جبکہ ملبے تلے دبے تمام افراد کو نکال لیا گیا ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اسکول کی چھت گرنے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے زخمی بچوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔
The full article is being collected. Available text is shown for now.