حکومت کا گندم کے بیج کی قیمتیں کم کرنے پر زور، ربیع سیزن کے لیے صرف 51 فیصد بیج دستیاب
حکومت کا گندم کے بیج کی قیمتیں کم کرنے پر زور، ربیع سیزن کے لیے صرف 51 فیصد بیج دستیاب
اسلام آباد: وفاقی وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے ربیع سیزن 2026-27 سے قبل نجی بیج کمپنیوں سے گندم کے بیج کی قیمتیں کم کرنے کی اپیل کردی، جبکہ ملک بھر میں گندم کی مجموعی ضرورت کا صرف 51 فیصد بیج دستیاب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے بدھ کو نجی بیج کمپنیوں اور نیشنل سیڈ ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (این ایس ڈی آر اے) کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں گندم کے بیج کی قیمتوں، معیار اور ایک صوبے سے دوسرے صوبے تک بیج کی ترسیل کے معاملات پر غور کیا گیا۔
وزارت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اجلاس کا مقصد کسانوں کو کم قیمت پر بیج کی فراہمی اور صوبوں کے درمیان بلا تعطل ترسیل یقینی بنانا تھا، تاکہ گندم کی بروقت کاشت اور ملکی غذائی تحفظ کو تقویت مل سکے۔
کراچی میں آئندہ چند روز موسم گرم اور خشک رہنے کی پیش گوئی
سرکاری دستاویز کے مطابق ربیع سیزن 2026-27 کے لیے ملک میں گندم کے بیج کی مجموعی ضرورت تقریباً 11 لاکھ 91 ہزار 555 ٹن ہے، جبکہ دستیاب بیج کی مقدار 6 لاکھ 11 ہزار 793 ٹن ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس طرح بیج کی دستیابی مجموعی ضرورت کا تقریباً 51 فیصد بنتی ہے۔
صوبوں کے لحاظ سے گندم کے بیج کی دستیابی کی صورتِ حال درج ذیل ہے:
پنجاب: 5 لاکھ 53 ہزار 9 ٹن، جو صوبے کی ضرورت کا 67 فیصد ہے۔
سندھ: 40 ہزار 874 ٹن، جو ضرورت کا 23 فیصد ہے۔
خیبرپختونخوا: 7 ہزار 459 ٹن، جو ضرورت کا 7 فیصد ہے۔
بلوچستان: 10 ہزار 452 ٹن، جو ضرورت کا 13 فیصد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں بیج کی دستیابی دیگر صوبوں کے مقابلے میں بہتر ہے، جبکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ضرورت کے مقابلے میں دستیاب بیج کا تناسب خاصا کم ہے۔
دستاویز میں بتایا گیا کہ گزشتہ ربیع سیزن 2025-26 کے دوران گندم کے بیج کی دستیاب مقدار 5 لاکھ 74 ہزار 330 ٹن تھی، جو مجموعی ضرورت کا تقریباً 51 فیصد بنتی تھی۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے نجی بیج کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ گندم کے بیج کی قیمتیں کم کریں تاکہ خصوصاً چھوٹے کسانوں کے لیے معیاری بیج خریدنا آسان ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹے کسانوں کے فیصلوں پر بیج، کھاد، آب پاشی اور دیگر زرعی مداخل کی مجموعی لاگت اثر انداز ہوتی ہے۔ ایسے میں بیج کی مناسب قیمت اور بروقت دستیابی فصل کی کاشت کے لیے اہم ہے۔
وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف قیمت کم کرنا کافی نہیں، بلکہ بیج کا معیار قابلِ اعتماد ہونا اور کاشت کے مقررہ وقت پر اس کی فراہمی بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔
ملک بھر میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی
رانا تنویر حسین نے نیشنل سیڈ ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کو ہدایت کی کہ گندم کے بیج کی بین الصوبائی نقل و حرکت میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں۔
ان کے مطابق صوبائی حکام اور بیج فراہم کرنے والی کمپنیوں کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہے، تاکہ جہاں بیج کی دستیابی کم ہے وہاں ضرورت کے مطابق ترسیل ممکن بنائی جا سکے اور کسان بروقت کاشت کر سکیں۔
اجلاس میں بیج کی اقسام، سرٹیفکیشن، پیکٹ کے وزن اور قیمتوں سے متعلق واضح معلومات فراہم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا، تاکہ کسان خریداری سے پہلے بیج کے معیار اور قیمت کا بہتر موازنہ کر سکیں۔
وفاقی وزیر کے مطابق تصدیق شدہ گندم کے بیج کا محدود استعمال زرعی پیداوار میں بہتری کی راہ میں ایک اہم چیلنج ہے۔ حکومت موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے والی، زیادہ پیداوار دینے والی اور بیماریوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والی گندم کی اقسام کو فروغ دینے کے لیے تحقیق اور بیج کی افزائش کے پروگرام مضبوط بنا رہی ہے۔
ربیع سیزن میں گندم کی بروقت کاشت ملکی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے اہم ہے۔ ایسے میں بیج کی دستیابی، قیمتوں میں مناسب کمی اور معیاری بیج کی فراہمی اس بات پر اثر انداز ہو سکتی ہے کہ کسان کتنے رقبے پر بروقت کاشت کر پاتے ہیں۔
تاہم، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں دستیاب بیج مجموعی ضرورت کا تقریباً نصف ہے، اس لیے باقی ضرورت پوری کرنے کے لیے بروقت انتظامات اور صوبوں کے درمیان مؤثر رابطہ اہم ہوگا۔ وزارت کی جانب سے قیمتوں میں کمی کی اپیل کے باوجود نجی کمپنیوں کی طرف سے قیمتوں میں کتنی کمی کی جائے گی، اس بارے میں تاحال کوئی مخصوص رقم یا حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت قومی زرعی و غذائی تحفظ کونسل (NAFSC) کا پہلا اجلاس
اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور وزیرِ خوراک سندھ نے پنجاب اور سندھ میں کسانوں کی ترقی کے لیے صوبائی حکومتوں کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ اجلاس میں بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں زراعت کی ترقی کے لیے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
"زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کسانوں کی ترقی، ایکو کلچر، شرمپ فارمنگ اور کسان کارڈ کے ذریعے کسانوں کو براہ راست سبسڈی فراہم کرنے جیسے احسن اقدامات کر رہی ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ کسانوں کی ترقی اور انہیں سہولیات فراہم کرنے کے لیے شب و روز محنت کر رہے ہیں۔ کسانوں بالخصوص چھوٹے و درمیانے درجے کے کسانوں کو انکی فصل کی صحیح قیمت فراہم کرنا ترجیح ہے۔ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے گندم وافر مقدار میں موجود ہے۔ چاہتے ہیں کسانوں کو گندم کی صحیح قیمت اور صارف کو سستی گندم ملے۔"
~ وزیراعظم محمد شہباز شریف
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) October 13, 2026
READ MORE FAQS” سوال 1: ربیع سیزن 2026-27 کے لیے گندم کے بیج کی کتنی مقدار دستیاب ہے؟
جواب: سرکاری دستاویز کے مطابق تقریباً 6 لاکھ 11 ہزار 793 ٹن بیج دستیاب ہے، جو مجموعی ضرورت کا تقریباً 51 فیصد ہے۔
سوال 2: گندم کے بیج کی مجموعی ضرورت کتنی ہے؟
جواب: ربیع سیزن 2026-27 کے لیے ملک کی مجموعی ضرورت تقریباً 11 لاکھ 91 ہزار 555 ٹن بتائی گئی ہے۔
سوال 3: کس صوبے میں گندم کے بیج کی دستیابی سب سے زیادہ ہے؟
جواب: دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں بیج کی دستیابی صوبے کی ضرورت کا 67 فیصد ہے، جو چاروں صوبوں میں سب سے زیادہ تناسب ہے۔
سوال 4: حکومت نے گندم کے بیج کی قیمتوں کے حوالے سے کیا مطالبہ کیا ہے؟
جواب: وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے نجی بیج کمپنیوں سے قیمتیں کم کرنے اور کسانوں کو معیاری بیج بروقت فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔
The full article is being collected. Available text is shown for now.